قبضہ پائیں گے کسی دن خلد میں گلزار پر
قبضہ پائیں گے کسی دن خلد میں گلزار پر
داغ کھاتے ہیں جو عاشق آپ کے رخسار پر
طائران عرش سے آنکھیں ملاتے ہیں طیور
بیٹھ کر اس روضۂ پُرنور کی دیوار پر
وہ بھی بکتے تھے تمہارے نام سے یا شاہ دیں
منکشف ہے حامل یوسف مردم بازار پر
کیوں نہ مومن دل سے ہوں دارفتہ ابروئے شاہ
راہ چلتا ہے صراطِ حشر کی دیوار پر
دور باغ شرع سے ہے جس کو کہتے ہیں خلش
کب ہیں کانٹے گلشن فردوس کی دیوار پر
مدحت دندان مولیٰ اس سے ہوتی ہے رقم
ابر نیساں کا گماں ہے کلک گوہر بار پر
چشم مولیٰ سے یہ ہم چشمی کا دعویٰ کیا کرے
مردنی چھائی ہوئی ہے نرگس بیمار پر
نامۂ عصیاں مرا کیوں کر نہ دھو جائے امیرؔ
فوق ہے ابر کرم کو ابر دریا بار پر
- کتاب : نعت کے چند شعرائے معتقدین (Pg. 86)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.