Font by Mehr Nastaliq Web

قبضہ پائیں گے کسی دن خلد میں گلزار پر

امیر مینائی

قبضہ پائیں گے کسی دن خلد میں گلزار پر

امیر مینائی

MORE BYامیر مینائی

    قبضہ پائیں گے کسی دن خلد میں گلزار پر

    داغ کھاتے ہیں جو عاشق آپ کے رخسار پر

    طائران عرش سے آنکھیں ملاتے ہیں طیور

    بیٹھ کر اس روضۂ پُرنور کی دیوار پر

    وہ بھی بکتے تھے تمہارے نام سے یا شاہ دیں

    منکشف ہے حامل یوسف مردم بازار پر

    کیوں نہ مومن دل سے ہوں دارفتہ ابروئے شاہ

    راہ چلتا ہے صراطِ حشر کی دیوار پر

    دور باغ شرع سے ہے جس کو کہتے ہیں خلش

    کب ہیں کانٹے گلشن فردوس کی دیوار پر

    مدحت دندان مولیٰ اس سے ہوتی ہے رقم

    ابر نیساں کا گماں ہے کلک گوہر بار پر

    چشم مولیٰ سے یہ ہم چشمی کا دعویٰ کیا کرے

    مردنی چھائی ہوئی ہے نرگس بیمار پر

    نامۂ عصیاں مرا کیوں کر نہ دھو جائے امیرؔ

    فوق ہے ابر کرم کو ابر دریا بار پر

    مأخذ :
    • کتاب : نعت کے چند شعرائے معتقدین (Pg. 86)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے