وہ کھلائے پھول صحرا کو سجا کر رکھ دیا
دلچسپ معلومات
منقبت در شان حضرت امام حسین (کربلا-عراق)
وہ کھلائے پھول صحرا کو سجا کر رکھ دیا
دشت میں شبیر نے جنت کا منظر رکھ دیا
جب جہاں جس کی طلب دیکھی برابر رکھ دیا
کاسۂ دست شہادت میں بھرا گھر رکھ دیا
بے ردائی بے حجابی میں کیا یہ امتیاز
ابر بالوں کا بنا کر ماہ رخ پر رکھ دیا
اللہ اللہ اختیاری تشنگی عباس کی
اس نے آب نہر چلو میں اٹھا کر رکھ دیا
ہر جھنک زنجیر پا کی آہ تھی مظلوم کی
جس نے خاموشی کے اندر شور محشر رکھ دیا
پیکر اکبر تراشہ دست قدرت نے تو پھر
گود میں شبیر کی حسن پیمبر رکھ دیا
اک نظر نے حر کے دل میں حضرت شبیر کی
خم صبو صہبا صراحی موج ساغر رکھ دیا
مظہریت شان حیدر کی علی زادوں میں ہے
کیا علی نے ہر علی میں اپنا تیور رکھ دیا
گود میں لے کر نبی نے اور بٹھا کر پشت پر
تذکرہ کس کا سرِ محراب و منبر رکھ دیا
صبر استقلال ہمت ہوش ایثار و وفا
اس نے بالترتیب ہر ہر نقش محضر رکھ دیا
کھل گیا سب پر کہ اصغر ہیں مگر ہیں تو علی
جب ہنسی سے توڑ کر تیر ستمگر رکھ دیا
بھیک لینے کے لیے امجدؔ درِ شبیر پر
سر فروشانِ وفا نے کاسۂ سر رکھ دیا
- کتاب : Takhaiyulat (Pg. 212)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.