عشق میں صبر و رضا ہیں ساز و سامانِ حسین
دلچسپ معلومات
منقبت در شان حضرت امام حسین (کربلا-عراق)
عشق میں صبر و رضا ہیں ساز و سامانِ حسین
کل کا کل تاراج ہوتا ہے گلستانِ حسین
مبتلائے آزمائش ہیں دل و جانِ حسین
خاک و خوں میں لوٹتے ہیں نو نہالانِ حسین
مضمحل پھر بھی نہیں ہے روئے تابانِ حسین
عشق میں ان کے میسر ہو مجھے عرفانِ ذات
اور نظر خیرہ کرے ان کا جمال کل جہات
نقش پا پر ان کے مٹ جاؤں تو پا جاؤں حیات
میرا دل میری نگاہیں میری ساری کائنات
کاش سب مٹ کر بنے گرد بیابان حسین
مہبط انوار سردارِ رسولاں ہیں امام
دامنِ سرکار میں جنت بداماں ہیں امام
اس جگہ عرش کرامت پر درخشاں ہیں امام
اؤلیا ہیں ماہ و انجم مہر تاباں ہیں امام
جلوہ فرما ہے ہر اک ذرے میں فیضان حسین
گود میں شبیر کو لے کر رسول محتشم
چومتے تھے لب گلا رخسار ان کا دم بدم
یوں نواسے نے رکھا نانا کی چاہت کا بھرم
بوسہ گاہِ مصطفیٰ پر جب چلی تیغ ستم
جگمگا اٹھا رخِ خنجر پہ ایمانِ حسین
کس قدر صورت ہے پیاری اصغر معصوم کی
ہے شہادت دل پہ آری اصغر معصوم کی
کیفیت ہے اضطراری اصغر معصوم کی
آخری سانسیں ہیں جاری اصغر معصوم کی
اور امت کے لیے پھیلا ہے دامانِ حسین
جبر کے طوفان اور رنج والم کی آندھیاں
خاندانی رنجشِ جاہ حشم کی آندھیاں
بر سرِ پیکار کعبے سے حرم کی آندھیاں
شام سے ایسی چلیں ظلم و ستم کی آندھیاں
دوپہر میں لٹ گیا سارا گلستانِ حسین
مصطفیٰ نے ناز اٹھائے یہ تھی شفقت لا کلام
کر گئے شبیر بھی لیکن وفاداری میں نام
کس سلیقے سے نبوت کا کیا ہے احترام
چند لمحے راکبِ دوشِ پیمبر تھے امام
آج تک اسلام ہے مرہونِ احسان حسین
یا الٰہی دے حیات و موت پر وہ اختیار
جاں تصدق کر سکوں ان پر میں اپنی بار بار
ہر نفس بڑھتا ہی جائے پھر بھی الفت کا خمار
تا قیامت میں فدا ہوتا رہوں دیوانہ وار
اور فروزاں ہی رہے شمعِ شبستانِ حسین
کل بہاروں کا ہوئی محور زمینِ کربل
یوں چمن آرا ہوئی بنجر زمین کربلا
آئے جس دم جد امجدؔ بر زمین کربلا
رشک جنت بن گئی نشترؔ زمین کربلا
کھل اٹھے جب دامنِ صحرا میں ریحانِ حسین
- کتاب : Takhaiyulat (Pg. 252)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.