اؤلیا میں سب سے آگے ہے مصلیٰ غوث کا
دلچسپ معلومات
منقبت در شان شیخ عبدالقادر جیلانی (بغداد-عراق)
اؤلیا میں سب سے آگے ہے مصلیٰ غوث کا
اور نعلینِ نبی تاجِ مطلیٰ غوث کا
حشر تک ہوتا رہے گا بول بالا غوث کا
اللہ اللہ کس قدر رتبہ ہے اعلیٰ غوث کا
روضۂ اقدس بھی ہے طور تجلیٰ غوث کا
مصطفیٰ کے لاڈلے زہرا علی کے نور عین
فیض سے جن کے منور ہیں جہان مشرقین
نسبت ابوین میں روشن ہیں جن کے جانبین
شمع نو بزم حسن گلدستۂ باغ حسین
نور و نکہت کا مرقع ہے سراپا غوث کا
بخت خوش انجام کو میں نے پڑھاہے ہاتھ میں
جنتی مجھ کو لکیروں نے لکھاہے ہاتھ میں
غوث اعظم کا سنہر ا سلسلہ ہے ہاتھ میں
اے تعالی اللہ دامن آ گیا ہے ہاتھ میں
مل گیا ہے مجھ کو قسمت سے وسیلہ غوث کا
میں اندھیروں کا مسافر روشنی کے وہ سفیر
لغزشیں ہیں پاؤں میں میرے تو وہ ہیں دستگیر
اے زہے قسمت کہ میرے پیر ہیں پیران پیر
وہ مرے مالک میں خادم وہ سخی اور میں فقیر
کس قدر پیارا ہے یہ رشتہ ہمارا غوث کا
بخت خوابیدہ غلاموں کا جگایا آپ نے
مژدۂ جنت مریدوں کو سنایا آپ نے
بارہ سالوں کا جو ڈوبا تھا ترایا آپ نے
چور کو ابدال اک دم میں بنایا آپ نے
جوش بخشش پر سدا رہتا ہے دریا غوث کا
تاج فرق اؤلیا ہے آپ کے قدموں کی دھول
اور فرشتوں کا صفِ اہل ارادت میں شمول
جو انہیں منظور وہ رب کو محمد کو قبول
آپ محبوب خدا ہیں اور محبوب رسول
مرتبہ محبوبیت میں ہے دو بالا غوث کا
امجدؔ بغداد سے نسبت کچھ ایسی ہے وجود
نام لوں ان کا تو میری بات بنتی ہے وجود
کامرانی کی کہوں تو بات اتنی ہے وجود
زندگی ان کے کرم پر میری گزری ہے وجود
ہر قدم پر میں نے پایا ہے سہارا غوث کا
- کتاب : Takhaiyulat (Pg. 214)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.