Font by Mehr Nastaliq Web

ایسے آدم کا بھی تیار نہ پتلا ہوتا

انظار رضا قادری

ایسے آدم کا بھی تیار نہ پتلا ہوتا

انظار رضا قادری

MORE BYانظار رضا قادری

    ایسے آدم کا بھی تیار نہ پتلا ہوتا

    پیارے آقا کا اگر نور نہ چمکا ہوتا

    با ادب جھوم کے نعتیں میں سناتا ان کو

    سامنے میرے بھی سرکار کا روضہ ہوتا

    اے مری موت یقینی ہے ترا آنا بھی

    در پہ سرکار کے جو آتی تو اچھا ہوتا

    ان کی جالی کو پکڑ کر جو میں نعتیں لکھتا

    حالِ دل کا مرے پھر سوچ لو کیسا ہوتا

    زائرو تم کو مبارک ہو سفرِ طیبہ کا

    کاش سرکار نے مجھ کو بھی بلایا ہوتا

    لوگ دشمن میں اگر آپ نہ حامی ہوتے

    آقا زندہ نہ یہ پھر آپ کا بندہ ہوتا

    ہر گھڑی ہونٹوں پہ ان کے ہی قصیدے ہوتے

    ان کی گلیوں میں جو انظارؔ بسیرا ہوتا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے