ایسے آدم کا بھی تیار نہ پتلا ہوتا
ایسے آدم کا بھی تیار نہ پتلا ہوتا
پیارے آقا کا اگر نور نہ چمکا ہوتا
با ادب جھوم کے نعتیں میں سناتا ان کو
سامنے میرے بھی سرکار کا روضہ ہوتا
اے مری موت یقینی ہے ترا آنا بھی
در پہ سرکار کے جو آتی تو اچھا ہوتا
ان کی جالی کو پکڑ کر جو میں نعتیں لکھتا
حالِ دل کا مرے پھر سوچ لو کیسا ہوتا
زائرو تم کو مبارک ہو سفرِ طیبہ کا
کاش سرکار نے مجھ کو بھی بلایا ہوتا
لوگ دشمن میں اگر آپ نہ حامی ہوتے
آقا زندہ نہ یہ پھر آپ کا بندہ ہوتا
ہر گھڑی ہونٹوں پہ ان کے ہی قصیدے ہوتے
ان کی گلیوں میں جو انظارؔ بسیرا ہوتا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.