طیبہ کی دلکشی دیکھتے رہ گئے
طیبہ کی دلکشی دیکھتے رہ گئے
ان کی نوری گلی دیکھتے رہ گئے
سوئے جنت چلے عاشقانِ نبی
منکرانِ نبی دیکھتے رہ گئے
قافلہ حاجیوں کا رواں دیکھ کر
سوئے کوئے نبی دیکھتے رہ گئے
اللہ اللہ مقدر کی نیرنگیاں
سب گئے ہم ابھی دیکھتے رہ گئے
آن کی آن میں جھولیاں بھر گئیں
محو حیرت سخی دیکھتے رہ گئے
در پہ حاضر ہوا جب غلامِ نبی
مالدار و غنی دیکھتے رہ گئے
آنِ واحد میں وہ لامکاں سے پھرے
منطقی فلسفی دیکھتے رہ گئے
شفقتِ مصطفیٰ دیکھ کے حشر میں
رتبۂ امتی دیکھتے رہ گئے
ارشدالقادری حشر میں امتی
سوئے لطفِ نبی دیکھتے رہ گئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.