Font by Mehr Nastaliq Web

سراپائے محمد عکس تھا نور مجرد کا

اثر امروہوی

سراپائے محمد عکس تھا نور مجرد کا

اثر امروہوی

MORE BYاثر امروہوی

    دلچسپ معلومات

    زیرِ نظر کلام خواجہ نور محمد چشتی مہاروی کے سالانہ عرسِ مقدس کے موقع پر بتاریخ 17 مارچ 1935ء، محلہ پیپلی کاٹیان، جئے پور میں منعقد ہونے والے ایک طرحی مشاعرے میں پیش کیا گیا، اس مشاعرے کے لیے مصرعِ طرح "ظہورِ دو جہاں ہے پرتو انوارِ محمد کا" مقرر کیا گیا تھا، بعد ازاں اس مشاعرے میں شریک شعرا کے تمام کلام کو "مظہرِ معرفت" کے نام سے شائع کیا گیا۔

    سراپائے محمد عکس تھا نور مجرد کا

    حقیقت میں یہ باعث تھا نہ تھا سایہ جو اس قد کا

    جو چمکا داغ سینہ میں تو لائے محمد کا

    مٹا دل سے ہمارے خوف تاریکی مرقد کا

    دیا قند مکرر کا مزہ میم مشدد نے

    لبوں پر نام جب نامِ خدا آیا محمد کا

    حصار عافیت ہے ہم سیہ کاران امت کو

    ہر اک حلقہ خمِ گیسوئے پیچانِ محمد کا

    حقیقت میں یہ اک راز و نیاز ربط باہم ہے

    کہ پردہ ہے احد کے بیچ میں میم محمد کا

    مدینہ جاؤں پہنچوں کربلا جاکر نجف دیکھوں

    اثرؔ اللہ کر دے تکملہ یوں میرے مقصد کا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے