Font by Mehr Nastaliq Web

ٹھکانہ ہے کہیں حسن و جمال روئے احمد کا

اثر نار نولی

ٹھکانہ ہے کہیں حسن و جمال روئے احمد کا

اثر نار نولی

MORE BYاثر نار نولی

    دلچسپ معلومات

    زیرِ نظر کلام خواجہ نور محمد چشتی مہاروی کے سالانہ عرسِ مقدس کے موقع پر بتاریخ 17 مارچ 1935ء، محلہ پیپلی کاٹیان، جئے پور میں منعقد ہونے والے ایک طرحی مشاعرے میں پیش کیا گیا، اس مشاعرے کے لیے مصرعِ طرح "ظہورِ دو جہاں ہے پرتو انوارِ محمد کا" مقرر کیا گیا تھا، بعد ازاں اس مشاعرے میں شریک شعرا کے تمام کلام کو "مظہرِ معرفت" کے نام سے شائع کیا گیا۔

    ٹھکانہ ہے کہیں حسن و جمال روئے احمد کا

    کہ ہے حسن آفریں تک والہ و شیدا محمد کا

    حقیقت آپ کی تو مانتے ہیں جاننے والے

    شریعت کے لیے پردہ بنا تھا میم احمد کا

    غلامانِ محمد ہیں غلامانِ محمد ہیں

    نہ کھٹکا روزِ محشر کا نہ دھڑکا ہم کو مرقد کا

    حسیں ہو سر و قامت ہو نہیں جچتا نہیں جچتا

    مرقع کھنچ گیا آنکھوں میں جس کے اس سہی قد کا

    خدا خود آپ کے ہر امتی کو پیار کرتا ہے

    ٹھکانہ ہے کہیں اللہ کے اس لطف بیحد کا

    یہ حسن خلق احمد ہے یہ حسن عقل احمد ہے

    ذرا سی دیر میں جھگڑا چکایا سنگ اسود کا

    اثرؔ اللہ سے اب آخری اک التجا یہ ہے

    دمِ آخر ہو نظارہ مجھے بھی سبز گنبد کا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے