Font by Mehr Nastaliq Web

کرم کریم کا اچھے سمے میں رکھتا ہے

اشفاق احمد غوری

کرم کریم کا اچھے سمے میں رکھتا ہے

اشفاق احمد غوری

MORE BYاشفاق احمد غوری

    کرم کریم کا اچھے سمے میں رکھتا ہے

    غلام زاد کو پیہم مزے میں رکھتا ہے

    پکارتے ہیں ترے خواب نیند کی جانب

    وفورِ عشق مجھے رتجگے میں رکھتا ہے

    سوائے نعت کوئی بات سوجھتی ہی نہیں

    جمالِ شاہ اسی دائرے میں رکھتا ہے

    درونِ قلب مہکتا ہے مثلِ مشکِ ختن

    خیالِ شاہ بڑے فائدے میں رکھتا ہے

    خیال ورد کے لمحے رہا مواجہ کا

    درودِ پاک مجھے رابطے میں رکھتا ہے

    اسے شہانِ جہاں پر ہے فوقیت حاصل

    جو ان کا طوقِ غلامی گلے میں رکھتا ہے

    وہی بناتا ہے اشفاقؔ لفظ کو مدحت

    جو میرے حرف کو اک ضابطے میں رکھتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے