سرِ نظارت رخِ مدینہ کہاں سے لاؤں
سرِ نظارت رخِ مدینہ کہاں سے لاؤں
عجم کی مٹی ہوں طورِ سینا کہاں سے لاؤں
حضورِ اکرم سنیں تو ہولے سے مسکرا دیں
میں نعت کہنے کا وہ قرینہ کہاں سے لاؤں
مہک تو سکتے ہیں اب بھی دونوں جہان لیکن
میں شاہِ ابرار کا پسینہ کہاں سے لاؤں
میں دیکھ پاؤں شہِ مکرم کے نرم تلوے
میں وہ مقدر وہ چشمِ بینا کہاں سے لاؤں
جسے مدینے کے کنکروں کی مثال سمجھوں
وہ لعلِ نایاب وہ نگینہ کہاں سے لاؤں
ربیعِ اول مسرتیں بانٹتا ہے ہر سو
میں ہر مہینے وہی مہینہ کہاں سے لاؤں
جو نعلِ پائے رسول تک دے رسائی مجھ کو
میں بے ہنر وہ رفیع زینہ کہاں سے لاؤں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.