Font by Mehr Nastaliq Web

شاہِ خوباں کی جھلک مانگنے والی آنکھیں

اشفاق احمد غوری

شاہِ خوباں کی جھلک مانگنے والی آنکھیں

اشفاق احمد غوری

MORE BYاشفاق احمد غوری

    شاہِ خوباں کی جھلک مانگنے والی آنکھیں

    ان کی دہلیز پہ رکھ دی ہیں سوالی آنکھیں

    بھیک بٹتی ہوئی دیکھی تھی سرِ بزمِ کرم

    تشنۂ دید تھے کشکول بنالی آنکھیں

    ایسی آنکھوں کو ملائک نے دیئے ہیں بوسے

    دیکھ لیتی ہیں جو سرکار کی جالی آنکھیں

    ایک دیدار کی حسرت میں ابھی روشن ہیں

    رو رو بے نور نہ ہو جائیں غزالی آنکھیں

    جن میں بس جلوۂ سرکارِ دو عالم ہوتا

    میرے چہرے پہ بھی ہوتیں وہ بلالی آنکھیں

    جب بھی ویرانیاں گھر کرنے لگیں آنکھوں میں

    نقشِ نعلین کی طلعت سے سجالی آنکھیں

    جب وہ گزریں گے تو دیکھیں گی انہیں جی بھر کے

    راہِ سرکار میں اشفاقؔ بچھالی آنکھیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے