Font by Mehr Nastaliq Web

بھر دیئے گئے کاسے بے بہا عطاؤں سے

اشفاق احمد غوری

بھر دیئے گئے کاسے بے بہا عطاؤں سے

اشفاق احمد غوری

MORE BYاشفاق احمد غوری

    بھر دیئے گئے کاسے بے بہا عطاؤں سے

    پوچھنا مدینے سے لوٹتے گداؤں سے

    ان کے عشق کا امرت پی لیا تھا گھٹی میں

    ان کا نام سیکھا تھا ہم نے اپنی ماؤں سے

    سرورِ امم مجھ کو اذنِ لب کشائی دیں

    حرفِ نعت لایا ہوں اپنے ساتھ گاؤں سے

    اے حبیبِ ما اب تو مرہمِ زیارت دیں

    مارِ ہجر ڈستا ہے مجھ کو سب دشاؤں سے

    آپ بس اشارہ دیں ہم کشاں کشاں آئیں

    خواہشِ سفر ہم نے باندھ لی ہے پاؤں سے

    یہ جو ہم مدینے میں جا کے جی سے جاتے ہیں

    ہم کشید کرتے ہیں زندگی فضاؤں سے

    حشر میں بھی ہم ناعت لطف لے رہے ہوں گے

    سبز سبز گنبد کی نرم نرم چھاؤں سے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے