Font by Mehr Nastaliq Web

اسمِ نبی آٹھوں پہر وردِ زباں رکھا گیا

اشفاق احمد غوری

اسمِ نبی آٹھوں پہر وردِ زباں رکھا گیا

اشفاق احمد غوری

MORE BYاشفاق احمد غوری

    اسمِ نبی آٹھوں پہر وردِ زباں رکھا گیا

    بہرِ کرم سوئے حرم اپنا یہ دھیاں رکھا گیا

    شہرِ نبی کی رفعتیں کوئی بشر سمجھے گا کیا

    جس کی زمیں کے زیرِ پا ہر آسماں رکھا گیا

    کیسا حسیں وہ قرب تھا محبوب سے معراج پر

    بس درمیاں میں فاصلہ مثلِ کماں رکھا گیا

    رتبے ہوئے محبوب کو کتنے عطا کس کو پتا

    کچھ ہو گئے ہم پر عیاں کچھ کو نہاں رکھا گیا

    تجھ پر قدم ان کے پڑے تجھ پر ہوئے وہ ملتفت

    تب ہی تجھے کوئے نبی رشکِ جناں رکھا گیا

    تشنہ لبی حد سے بڑھی برسا دیئے ابرِ کرم

    سرکار کے نوکر تجھے پیاسا کہاں رکھا گیا

    احسان ہے کتنا بڑا اشفاقؔ پر اللہ کا

    اس کو شہِ ہر دوسرا کا نعت خواں رکھا گیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے