Font by Mehr Nastaliq Web

حرفِ مدحت جو مری عرضِ ہنر میں چمکا

اشفاق احمد غوری

حرفِ مدحت جو مری عرضِ ہنر میں چمکا

اشفاق احمد غوری

MORE BYاشفاق احمد غوری

    حرفِ مدحت جو مری عرضِ ہنر میں چمکا

    میرا ہر حرف زمانے کی نظر میں چمکا

    دے گیا کتنے شرف ایک سیہ پتھر کو

    ایک بوسہ جو ترے لب سے حجر میں چمکا

    وجہِ شادابیٔ عالم ہے یہ رنگِ اخضر

    ہر زمانے میں ہر اک برگِ شجر میں چمکا

    واسطہ ان کا دیا صلِ علیٰ پڑھتے ہوئے

    میرا ہر حرفِ دعا بابِ اثر میں چمکا

    کیسے ہو شہرِ مدینہ کی بلندی کا بیاں

    جس کے ذرے کا بدن روئے قمر میں چمکا

    خواب خواہش کے حسیں طاق پہ رکھا ہی رہا

    لمعۂ یاد مرے شام و سحر میں چمکا

    ٹوٹتے حوصلے اشفاقؔ جواں ہونے لگے

    گنبدِ سبز مری راہ گزر میں چمکا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے