رہا خیال مصطفیٰ کی ذات سے جُڑا ہوا
رہا خیال مصطفیٰ کی ذات سے جڑا ہوا
یہ نام ہے ہماری بات بات سے جڑا ہوا
وہی رہے گا معتبر کریم کی نگاہ میں
جو حرف ہے شہِ عرب کی نعت سے جڑا ہوا
نگل ہی جائے تیرگی ہمارے خواب خواب کو
اگر نہ ذکرِ زلفِ شہ ہو رات سے جڑا ہوا
خطا مری معاف ہو اگر ہوں آپ ملتفت
نصیب ہے حضور التفات سے جڑا ہوا
صراطِ خلد دیکھتا ہوں جس کی رہنمائی میں
وہ نورِ نعت ہے قلم دوات سے جڑا ہوا
ترے ہی دم سے روئے کائنات پر ہیں رونقیں
ترے ہی دم سے ربط ہے حیات سے جڑا ہوا
جسے ملی ہے نسبتِ قدومِ شاہِ دوسرا
وہی رہے گا دائمی ثبات سے جڑا ہوا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.