Font by Mehr Nastaliq Web

حریمِ قلب سنگِ در سے لف رکھا ہوا ہے

اشفاق احمد غوری

حریمِ قلب سنگِ در سے لف رکھا ہوا ہے

اشفاق احمد غوری

MORE BYاشفاق احمد غوری

    حریمِ قلب سنگِ در سے لف رکھا ہوا ہے

    یہ دھیان اپنا مدینے کی طرف رکھا ہوا ہے

    روایت کے مطابق ان کا استقبال ہوگا

    کہ ہم نے دل نہیں سینے میں دف رکھا ہوا ہے

    نظر فرمائیں گے تو گوہرِ نایاب ہوگا

    درِ سرکار پر دل کا خذف رکھا ہوا ہے

    سرِ افلاک جس کی دھوم ہے وہ سبزِ گنبد

    زمیں کی گود میں گویا صدف رکھا ہوا ہے

    کوئی تو بارگاہِ نعتِ میں مقبول ہوگا

    ہر اک حرفِ سخن کو صف بہ صف رکھا ہوا ہے

    سرِ مژگاں سجا کر خواب کی خواہش کے دیپک

    بس اک دیدار آنکھوں کا ہدف رکھا ہوا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے