Font by Mehr Nastaliq Web

سنہری جالی کی ضو فشانی کو مانتی ہیں مطاف آنکھیں

اشفاق احمد غوری

سنہری جالی کی ضو فشانی کو مانتی ہیں مطاف آنکھیں

اشفاق احمد غوری

MORE BYاشفاق احمد غوری

    سنہری جالی کی ضو فشانی کو مانتی ہیں مطاف آنکھیں

    اسی کا اشکوں سے با وضو ہو کے کر رہی ہیں طواف آنکھیں

    لگا کے امید در گزر کی ندامتوں سے جھکا کے پلکیں

    درِ رسالت پہ کر رہی ہیں گناہ کا اعتراف آنکھیں

    یہ عکسِ تاباں یہ روئے اطہر کوئی نہ دیکھے سوائے ان کے

    ترے تصور پہ ڈال دیتی ہیں آنسوؤں کا لحاف آنکھیں

    میں اپنی آنکھوں کو دائمی روشنی کا رستہ دکھا رہا ہوں

    رہیں گی روشن قدومِ سرور میں گر کریں اعتکاف آنکھیں

    کبھی مرے خواب کے دریچے میں روشنی بن کے مسکرائے

    وہ نور چہرہ جو تیرگی میں بھی دیکھ لیتی ہیں صاف آنکھیں

    دیارِ اطہر کے ذرے ذرے کو یہ جو جھک جھک کے چومتی ہیں

    تلاش کرتی ہیں گردِ راہِ محمدی کا غلاف آنکھیں

    بسا ہے اشفاقؔ جب نظر میں حسِین گنبد کا سبز منظر

    تو کیوں نہ کرتیں دھنک کے رنگوں سے دائمی انحراف آنکھیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے