Font by Mehr Nastaliq Web

جو نغمے نعت کے آنکھوں کو کر کے نم سناتے ہیں

اشفاق احمد غوری

جو نغمے نعت کے آنکھوں کو کر کے نم سناتے ہیں

اشفاق احمد غوری

MORE BYاشفاق احمد غوری

    جو نغمے نعت کے آنکھوں کو کر کے نم سناتے ہیں

    تو قدسی پھول ان کے نام پر پیہم لٹاتے ہیں

    خدا دامان ان کے دولتِ رحمت سے بھرتا ہے

    جو نقشِ نعل کا گھر بار میں پرچم لگاتے ہیں

    ابھی صحنِ چمن سے بادِ کوئے شاہ گزری ہے

    گلوں پر حسنِ رنگ و نور کے موسم بتا تے ہیں

    نگاہِ کیمیا سے خاک بھی زر ناب ہوتی ہے

    سفالی جام کو سرکار جامِ جم بناتے ہیں

    سجا کر نوکِ نعلینِ نبی پر ہر شرف اپنا

    ہم اپنے عجز کو اپنی جبیں کا خم بناتے ہیں

    حسیں شانوں پہ ڈھلکے عنبریں سرکار کے گیسو

    مری یادوں میں آ کر دل کے سارے غم مٹاتے ہیں

    ہوائے کوئے بطحیٰ کاش میرے کان میں کہہ دے

    چلو اشفاقؔ تجھ کو سرورِ عالم بلاتے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے