فروغِ دین و ایماں عظمت و شان رسالت ہے
فروغِ دین و ایماں عظمت و شان رسالت ہے
اسی کی ذات سے روشن جہاں میں شمع وحدت ہے
اسی کے دم سے دنیا میں عروجِ آدمیت ہے
محمد مصطفیٰ سے مجھ کو بھی دل سے عقیدت ہے
پڑھایا درس اہلِ دہر کو اس نے اخوت کا
اسی کی ذاتِ اقدس نے دیا پیغام الفت کا
بجا ہے ہم اگر بھرتے ہیں دم اس کی عقیدت کا
محمد مصطفیٰ سے مجھ کو بھی دل سے عقیدت ہے
اسی نے ہی ہمیں جذبہ رضا و صبر کا بخشا
دکھایا ہے اسی نے صدقہ و خیرات کا رستا
زمانے میں کیا اس نے علم توحید کا اونچا
محمد مصطفیٰ سے مجھ کو بھی دل سے عقیدت ہے
محمد مصطفیٰ کے دین کو ایمان کو سمجھا
دل و جاں سے شہِ ابرار کے فرمان کو سمجھا
کلامِ حق ہی میں نے مصحفِ قرآن کو سمجھا
محمد مصطفیٰ سے مجھ کو بھی دل سے عقیدت ہے
سہارا بے کسوں کا بے نواؤں کی نوا ہے وہ
پناہِ بے پناہاں درد مندوں کی دوا ہے وہ
شہنشاہِ امم ہے تاجدارِ انبیا ہے وہ
محمد مصطفیٰ سے مجھ کو بھی دل سے عقیدت ہے
درِ محبوب یزداں کی گدائی پر ہوں میں نازاں
یقیں ہے ہو ہی جائیں گی مری سب مشکلیں آساں
شفاعت کا اسی کی ذاتِ اقدس سے ہوں میں خواہاں
محمد مصطفیٰ سے مجھ کو بھی دل سے عقیدت ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.