Font by Mehr Nastaliq Web

چلے جھونکے مدینے کی ہوا کے

اظہر قادری

چلے جھونکے مدینے کی ہوا کے

اظہر قادری

MORE BYاظہر قادری

    چلے جھونکے مدینے کی ہوا کے

    ہری ہے دل کی کھیتی لہلہا کے

    خدا سے مانگیے بطحیٰ کو جا کے

    بہت بٹتے ہیں صدقے مصطفیٰ کے

    بھرا دل، بھر گئی جھولی، بھری آنکھ

    کوئی لوٹا نہ خالی ہاتھ آکے

    نبی تشریف لے آئے جہاں میں

    دریچے کھل گئے دارالہدیٰ کے

    کیا وحدانیت کا نظم قائم

    بتوں کو خانۂ رب سے ہٹا کے

    وہ زندہ ہو کے مردہ تھے عرب میں

    صحابہ جی اٹھے آقا کو پا کے

    مدینہ شہر ہے بے شک نبی کا

    مگر جلوے ملے ہر سو خدا کے

    نبی دل میں ہیں یا دل میں نہیں ہیں

    ذرا دیکھو درِ دل کھٹکھٹا کے

    شبیہِ مصطفیٰ ہٹنے نہ پائی

    تصور نے بہت کھینچے ہی خاکے

    یہاں سجدے کرو تو جان لو گے

    ہزاروں معجزے ہیں نقشِ پا کے

    وہ رحمت ہیں سراسر، میں ہوں زحمت

    عجب ہیں مرحلے بیم و رجا کے

    نہ جانے کب کدھر سے آپ آئیں

    مروں گا میں مگر آنکھیں بچھا کے

    حبیبِ رب کی امت میں ہوئے ہم

    یہی احسان کیا کم ہیں خدا کے

    نبی کا عشق، الفت اور محبت

    خدا سے مانگیے گا گڑ گڑا کے

    نچھاور جان قدموں پر کروں گا

    کبھی دیکھیں جو آقا مسکرا کے

    مجھے ڈھونڈو تو خاکِ پا میں ڈھونڈو

    میں صدقے ہو چکا ہوں نقشِ پا کے

    اطاعت میں ہیں کس کی سارے چکر

    حرم کے، کعبہ کے، مرویٰ صفا کے

    اجالے جو نظر آتے ہیں ہر سو

    ہیں غارِ ثور کے غارِ حرا کے

    مدینوں کا مدینہ ہے مدینہ

    چلی آتی ہے خلقت کھچ کھچا کے

    کہیں کچھ ہاتھ آنے کا نہیں ہے

    مدینہ آتے ہیں سب پھر پھرا کے

    نظارہ چرخ بھی دیکھے تو جھومے

    ہیں شانوں پر نواسے مصطفیٰ کے

    سروں سے سایۂ ماں باپ اٹھا

    سروں پر ہاتھ آئے مصطفیٰ کے

    اب اس سے خوب سایہ کیا ملے گا

    بڑا احساں کئے ماں باپ جاکے

    مجھے چھوٹوں کے چہرے، جھوٹ چہرے

    چراغاں ہوگئے چہرے صفا کے

    بروزِ حشر ان سے پاس ہونے

    نکل ہی جائیں گے ہم پھنس پھنسا کے

    لگا الزام جب اظہرؔ کے سر پر

    نبی کی گا رہا ہے رب کی کھاکے

    کہا اظہرؔ نے بھی کلمہ تو پڑھ لے

    نبی کے نامِ نامی کو ہٹا کے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے