Font by Mehr Nastaliq Web

یوں تو ہیں لاکھوں حسیں، الفت کے قابل ایک ہے

عزیز وارثی دہلوی

یوں تو ہیں لاکھوں حسیں، الفت کے قابل ایک ہے

عزیز وارثی دہلوی

MORE BYعزیز وارثی دہلوی

    دلچسپ معلومات

    منقبت در شان حضرت ابوالحسن امیر خسروؔ (دہلی-بھارت)

    یوں تو ہیں لاکھوں حسیں، الفت کے قابل ایک ہے

    چار جانب ہیں شعاعیں، ماہِ کامل ایک ہے

    قیس ہو، فرہاد ہو، وامق ہو یا محمود ہو

    ہیں نگاہیں مختلف لیلائے محمل ایک ہے

    مأخذ :
    • کتاب : نذر خسرو امیر خسرو (Pg. 60)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے