پھیلا ہوا ہے نور یہ کس کا نہ پوچھیے
پھیلا ہوا ہے نور یہ کس کا نہ پوچھیے
دنیا کو کس حسِیں نے سنوارا نہ پوچھیے
دیدارِ رب کی کس نے ہمیں دیں بشارتیں
جنت کا شوق کس نے بڑھایا نہ پوچھیے
کس کے تصورات میں رہتا ہوں رات دن
آنکھوں میں کس کا نور سمایا نہ پوچھیے
بے کس نواز کون ہے عاجز پناہ کون
کرتے کہاں غریب گزارا نہ پوچھیے
در پر پہنچ گئے جو غلامانِ مصطفىٰ
آقا نے کس طرح سے نوازا نہ پوچھیے
کیف و سرور رِقت و سوزِ دل و جگر
کیا کیا درِ حبیب سے پایا نہ پوچھیے
زن زر زمین زِیست کی ہر بہار سے
ہم کو بشیرؔ کون ہے پیارا نہ پوچھیے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.