نور حق رب کا منشا مدینے میں ہے
نور حق رب کا منشا مدینے میں ہے
حق کے بندوں کا آقا مدینے میں ہے
ذاتِ مطلق کا جلوہ مدینے میں ہے
کنتُ کنزاً کا پردہ مدینے میں ہے
اپنی پرسش کی پروا نہیں حشر میں
عاصیوں کا سہارا مدینے میں ہے
کوئی مایوس اس در سے لوٹا نہیں
دونوں عالم کا داتا مدینے میں ہے
جس کے دامن میں رحمت ہی رحمت چھپی
وہ مرا کملی والا مدینے میں ہے
دونوں عالم ہی کیا جگمگا جائیں دل
ایک ایسا اجالا مدینے میں ہے
جس کا ادنیٰ سا پر تو ہیں شمس و قمر
وہ سراجاً منیرا مدینے میں ہے
صورت عبد میں ڈھل کے جو آ گیا
نور کا اک تماشا مدینے میں ہے
ہوش آ جائے گر دیکھے بیہوشؔ اسے
اس کرامت کا چہرہ مدینے میں ہے
- کتاب : Hosh-e-Aqeedat (Pg. 103)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.