Font by Mehr Nastaliq Web

نور حق رب کا منشا مدینے میں ہے

بیہوش محبوب نگری

نور حق رب کا منشا مدینے میں ہے

بیہوش محبوب نگری

MORE BYبیہوش محبوب نگری

    نور حق رب کا منشا مدینے میں ہے

    حق کے بندوں کا آقا مدینے میں ہے

    ذاتِ مطلق کا جلوہ مدینے میں ہے

    کنتُ کنزاً کا پردہ مدینے میں ہے

    اپنی پرسش کی پروا نہیں حشر میں

    عاصیوں کا سہارا مدینے میں ہے

    کوئی مایوس اس در سے لوٹا نہیں

    دونوں عالم کا داتا مدینے میں ہے

    جس کے دامن میں رحمت ہی رحمت چھپی

    وہ مرا کملی والا مدینے میں ہے

    دونوں عالم ہی کیا جگمگا جائیں دل

    ایک ایسا اجالا مدینے میں ہے

    جس کا ادنیٰ سا پر تو ہیں شمس و قمر

    وہ سراجاً منیرا مدینے میں ہے

    صورت عبد میں ڈھل کے جو آ گیا

    نور کا اک تماشا مدینے میں ہے

    ہوش آ جائے گر دیکھے بیہوشؔ اسے

    اس کرامت کا چہرہ مدینے میں ہے

    مأخذ :
    • کتاب : Hosh-e-Aqeedat (Pg. 103)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے