زلف و رخ کا ہے پرتو وقت کے نظاموں میں
زلف و رخ کا ہے پرتو وقت کے نظاموں میں
آپ ہی کا جلوہ ہے صبحوں اور شاموں میں
ضم ازل ابد دونوں آپ کے خراموں میں
شامل اول اور آخر آپ کے مقاموں میں
قربِ حق کی ہر منزل آپ ہی نے بتلائی
شانِ باریابی ہے قاعدوں قیاموں میں
لب تو مصطفیٰ کے ہیں بات ذاتِ حق کی ہے
ہیں پیام اللہ کے آپ کے پیاموں میں
صرف امتی ہی کیا خود خدا بھی شامل ہے
آپ پر درودوں میں آپ پر سلاموں میں
خلقتِ دوعالم جب فیضِ نورِ احمد ہے
ایک نام ہی سے ہے جان سب کے ناموں میں
کیف چشمِ ساقی کا حسبِ قابلیت ہے
یوں تو بادۂ ہستی ایک ہی ہے جاموں میں
عشق صاحبِ اسریٰ بات ہے مقدر کی
ورنہ مل نہیں سکتا یہ گہر تو داموں میں
سر کو رکھ کے سجدے میں ملتجی ہے یہ بیہوشؔ
ہو شمار اس کا بھی آپ کے غلاموں میں
- کتاب : Hosh-e-Aqeedat (Pg. 45)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.