Font by Mehr Nastaliq Web

زلف و رخ کا ہے پرتو وقت کے نظاموں میں

بیہوش محبوب نگری

زلف و رخ کا ہے پرتو وقت کے نظاموں میں

بیہوش محبوب نگری

MORE BYبیہوش محبوب نگری

    زلف و رخ کا ہے پرتو وقت کے نظاموں میں

    آپ ہی کا جلوہ ہے صبحوں اور شاموں میں

    ضم ازل ابد دونوں آپ کے خراموں میں

    شامل اول اور آخر آپ کے مقاموں میں

    قربِ حق کی ہر منزل آپ ہی نے بتلائی

    شانِ باریابی ہے قاعدوں قیاموں میں

    لب تو مصطفیٰ کے ہیں بات ذاتِ حق کی ہے

    ہیں پیام اللہ کے آپ کے پیاموں میں

    صرف امتی ہی کیا خود خدا بھی شامل ہے

    آپ پر درودوں میں آپ پر سلاموں میں

    خلقتِ دوعالم جب فیضِ نورِ احمد ہے

    ایک نام ہی سے ہے جان سب کے ناموں میں

    کیف چشمِ ساقی کا حسبِ قابلیت ہے

    یوں تو بادۂ ہستی ایک ہی ہے جاموں میں

    عشق صاحبِ اسریٰ بات ہے مقدر کی

    ورنہ مل نہیں سکتا یہ گہر تو داموں میں

    سر کو رکھ کے سجدے میں ملتجی ہے یہ بیہوشؔ

    ہو شمار اس کا بھی آپ کے غلاموں میں

    مأخذ :
    • کتاب : Hosh-e-Aqeedat (Pg. 45)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے