فخرِ کون و مکاں رونقِ کن فکاں آپ رحمت ہیں دونوں جہاں کے لیے
فخرِ کون و مکاں رونقِ کن فکاں آپ رحمت ہیں دونوں جہاں کے لیے
بیہوش محبوب نگری
MORE BYبیہوش محبوب نگری
فخرِ کون و مکاں رونقِ کن فکاں آپ رحمت ہیں دونوں جہاں کے لیے
آپ ہی سے ہیں روشن زمیں آسماں آپ شمعِ ہدیٰ ہر مکاں کے لیے
کیسے مرجھائے گا آپ کا گلستاں تا ابد اس چمن کی ہیں شادابیاں
آپ کی ذات ہے نزہتِ جاوداں راستہ ہی کہاں ہے خزاں کے لیے
آپ اول بھی ہیں آپ آخر بھی ہیں آپ باطن بھی ہیں آپ ظاہر بھی ہیں
آپ کی شکل ہے سب کے پیشِ نظر ہے حقیقت فقط رازداں کے لیے
نورِ مطلق بھی ہیں اور خدا بھی نہیں نور مبدا سے اپنے جدا بھی نہیں
آپ کی اس لطافت پہ شانِ بشر ایک پردہ ہے سرّ نہاں کے لیے
ہے لقب اس جگہ رحمتِ عالمیں ہے خطاب اس جگہ شافعِ مذنبیں
ساری امت کو ہے اس کا حق الیقیں خلد منزل ہے اس کارواں کے لیے
فرش سے عرش تک آپ کا ہے علم دوجہاں کی بلندی ہے زیرِ قدم
سدرۃ المنتہیٰ بھی ہے رفعت میں کم عزمِ پرواز ہے لامکاں کے لیے
سبز گنبد تجلی کا سر پوش ہے حسنِ مہرِ عرب جس میں روپوش ہے
اک نظر جس نے دیکھا وہ بیہوشؔ ہے بات مشکل ہے اب بے زباں کے لیے
- کتاب : Hosh-e-Aqeedat (Pg. 101)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.