نور مطلق کا ہے فیضان مدینے والے
نور مطلق کا ہے فیضان مدینے والے
ذرے ذرے پہ ہے احسان مدینے والے
آپ کا دامنِ رحمت ہے وہ دستورِ حیات
جس کو سب کہتے ہیں قرآن مدینے والے
گمرہی میں بھی تمہیں یاد کیا کرتے ہیں
سارے بھٹکے ہوئے انسان مدینے والے
دین و دنیا میں گنہگار کا مونس ہے کون
آپ اگر ہوگئے انجان مدینے والے
لازمی آپ کی الفت بھی ہے توحید کےساتھ
ورنہ ناقصِ ہے وہ ایمان مدینے والے
داغِ دل سوزِ جگر اشکِ ندامت کے سوا
پاس میرے نہیں سامان مدینے والے
بے خودِ عشق کو بے ہوش نہ سمجھے دنیا
آج ہیں اس کے نگہبان مدینے والے
آپ کے نام کی نبیوں نے دہائی دی ہے
سب پہ ہے آپ کا احسان مدینے والے
ان کا دامن ہے ترے ہاتھ میں بیہوشؔ اگر
باخبر تجھ سے ہیں ہر آن مدینے والے
- کتاب : Hosh-e-Aqeedat (Pg. 10)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.