Font by Mehr Nastaliq Web

اسی سے صاف ظاہر ہے تمہارا مرتبہ خواجہ

بہزاد لکھنوی

اسی سے صاف ظاہر ہے تمہارا مرتبہ خواجہ

بہزاد لکھنوی

MORE BYبہزاد لکھنوی

    دلچسپ معلومات

    منقبت در شان غریب نواز خواجہ معین الدین حسن چشتی (اجمیر-راجستھان)

    اسی سے صاف ظاہر ہے تمہارا مرتبہ خواجہ

    کہ اٹھتی ہے تمہاری سمت چشمِ اؤلیا خواجہ

    تحیر میں پڑی ہے کیوں مری چشمِ تماشائی

    نظر کی ابتدا خواجہ، نظر کی انتہا خواجہ

    تواتر سے مرے سجدوں کے کیوں دنیا کو حیرت ہے

    مجھے تو عشق نے بخشا تمہارا رابطہ خواجہ

    در و دیوار کو اک وجد ہے سکتہ میں ہے دنیا

    زبانِ بے زبانی کہہ رہی ہے ماجرا خواجہ

    تمہارے در پہ آ کر دین دنیا پا لیے میں نے

    تمہیں سے ہو رہے ہیں دونوں عالم کی بنا خواجہ

    زہے شانِ کریمی اب میرے دامن میں سب کچھ ہے

    مری امید سے تم نے دیا مجھ کو سوا خواجہ

    کوئی ہر گام پہ یہ کہہ رہا ہے میرے کانوں میں

    سراجِ عارفاں خواجہ ہیں جانِ اؤلیا خواجہ

    مرے عالم کو اے بہزادؔ اہلِ دل ہی سمجھیں گے

    زبانِ عشق سے کہتا ہوں میں ہر وقت یا خواجہ

    مأخذ :
    • کتاب : ہند کے راجہ (Pg. 94)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے