Font by Mehr Nastaliq Web

مدینے کو جائیں یہ جی چاہتا ہے

بہزاد لکھنوی

مدینے کو جائیں یہ جی چاہتا ہے

بہزاد لکھنوی

MORE BYبہزاد لکھنوی

    مدینے کو جائیں یہ جی چاہتا ہے

    مقدر بنائیں یہ جی چاہتا ہے

    مدینے کے آقا دو عالم کے مولیٰ

    ترے پاس آئیں یہ جی چاہتا ہے

    محمد کی باتیں محمد کی سیرت

    سنیں اور سنائیں یہ جی چاہتا ہے

    درِ پاک کے سامنے دل کو تھامے

    کریں ہم دعائیں یہ جی چاہتا ہے

    دلوں سے جو نکلیں دیارِ نبی میں

    سنیں وہ صدائیں یہ جی چاہتا ہے

    پہنچ جائیں بہزادؔ جب ہم مدینے

    تو خود کو نہ پائیں یہ جی چاہتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے