دن ہے سہانا چھیل چھبیلا رات بڑی البیلی ہے
دلچسپ معلومات
منقبت در شان حضرت ابوالحسن امیر خسروؔ (دہلی-بھارت)
دن ہے سہانا چھیل چھبیلا رات بڑی البیلی ہے
لیکن تجھ بِن یہ موسم بھی جیسے ٹھگوں کی حویلی ہے
دور رہے تو ہر اک لمحہ بیتی صدی سا لگتا تھا
پاس ہوئے تو ہر اک دھڑکن دلہن نئی نویلی ہے
کچی نیند جگا جاتی ہے رات میں ساون بھادوں کی
الھڑ چوٹوں کی پردائی کتنی شوخ سہیلی ہے
ان دونوں کی ایک ہی ماں ہے دو قالب ہیں ایک ہی جاں ہے
پھر بھی اردو کو ہندی کی لوگ کہیں سوتیلی ہے
میری زباں ہر دل کی زباں ہے کومل کومل حسنِ بیاں ہے
برسوں تک یہ تو خسرو کی انگنائی میں کھیلی ہے
آ گئیں یاد کٹھور کی بتیاں، برسے نین، دھڑک گئیں چھتیاں
پردیسی اب بھیج دے پتیاں برہن آج اکیلی ہے
کون ہے کس کا میت نہ پوچھو، یہ بھی جگت کی، ریت نہ پوچھو
اپنوں سے پردہ ہے لیکن غیروں سے اٹھکیلی ہے
ہر پہلو اک زخم اگائے، ہر کروٹ مرہم بن جائے
بیکلؔ بوجھ سکو تو بوجھو ،عشق بھی ایک پہیلی ہے
- کتاب : نذر خسرو امیر خسرو (Pg. 56)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.