بھلا کون آج بزمِ دہر میں ایسا حسیں آیا
بھلا کون آج بزمِ دہر میں ایسا حسیں آیا
صدا ہر سمت سے آئی کوئی ماہِ مبیں آیا
ملی اس کی بدولت گلشنِ ہستی کو رعنائی
مجسم نورِ عرفاں سرورِ دنیا و دیں آیا
کیا یوں بادۂ توحید سے سرشار عالم کو
دلوں سے والہانہ نعرۂ صد آفریں آیا
کوئی بھی چھوڑ کر دامن محمد کا کہاں جائے
وہ لے کر تحفہ بخشش برائے مؤمنیں آیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.