خسروِ دانا! کوئی تجھ سا کہاں فرزانہ تھا
دلچسپ معلومات
منقبت در شان حضرت ابوالحسن امیر خسروؔ (دہلی-بھارت)
خسروِ دانا! کوئی تجھ سا کہاں فرزانہ تھا
تو خدا سے آشنا تھا، آپ سے بیگانہ تھا
دل کو چین آتا نہ محبوبِ الٰہی کے بغیر
شمع تھی حبِ نظامی اور تو پروانہ تھا
بے ستونِ شعر و علم و آگہی کے کوہ کن
لیلیٔ فکر و شعور و فن کا تو دیوانہ تھا
تھی تجھے عشقِ جنوں آگیں کی مئے خواری پسند
اور درگاہِ نظام الدیں ترا میخانہ تھا
با مسلماں اللہ اللہ با برہمن رام رام
دھن تری مستانہ تھی ،مسلک ترا رندانہ تھا
روحِ مذہب پر نظر تھی یعنی انساں دوستی
امتیازِ مذہب و ملت سے تو بیگانہ تھا
تیرے افکارِ نشاطِ انگیز سے ظاہر ہوا
دل ترا اخلاص کا چھلکا ہوا پیمانہ تھا
تھی کوئی دنیا سے دلچسپی تو ذاتِ دوست تھی
ورنہ عالم دیدۂ حق بیں میں اک ویرانہ تھا
تو نے پی صہبائے عرفاں ہر تجلی گاہ سے
ایک ہی ساقی تھا جو میخانہ در میخانہ تھا
سر ہمیشہ دل کے دروازے پہ خم پایا گیا
تیرا سجدہ بے نیازِ کعبہ و بتخانہ تھا
اپنے پہلو میں لٹایا اس نے زیرِ خاک بھی
جس کا تو مہمان تھا جو ترا صاحبِ خانہ تھا
آج صوفی سنت بیٹھے ہیں جو تیری بزم میں
میں نے دیکھا ان کے لب پر تیرا ہی افسانہ تھا
ان کے سینوں میں بھی روشن ہے وہ عشقِ جاں فزا
دل ترا جس عشق کا نور آفریں کاشانہ تھا
یہ بھی اہلِ درد رکھتے ہیں محبت کی تلاش
جس محبت کے لیے تو عمر بھر دیوانہ تھا
ہم نے اے درشنؔ محبت کے سو آفاق میں
خواب تھا جو کچھ بھی دیکھا جو سنا افسانہ تھا
- کتاب : نذر خسرو امیر خسرو (Pg. 66)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.