Font by Mehr Nastaliq Web

تھا مجھے عشق محمد جبکہ یہ عالم نہ تھا

دلو رام کوثری

تھا مجھے عشق محمد جبکہ یہ عالم نہ تھا

دلو رام کوثری

MORE BYدلو رام کوثری

    تھا مجھے عشق محمد جبکہ یہ عالم نہ تھا

    بس خلا ہی تھا خلا حوا نہ تھی آدم نہ تھا

    چاند سورج آسماں تارے زمیں دریا نہ تھے

    گل نہ تھا گلشن نہ تھا اور قطرۂ شبنم نہ تھا

    انقلابِ دہر کا قانون تھا حرفِ فنا

    تھی خوشی معدوم بالکل اور پیدا غم نہ تھا

    دفتر پیدائش و اموات قطعی بند تھا

    محفل شادی نہ تھی اور خانۂ ماتم نہ تھا

    برہم و درہم مرقع تھا جہانِ ہیچ کا

    بادشہ کوئی نہ تھا اور سکۂ درہم نہ تھا

    آب و آتش صنعتِ تحلیل میں محلول تھے

    خاک میں یہ خاکساری اور ہوا میں دم نہ تھا

    عاشق و معشوق کا راز محبت تھا نہاں

    مونس و ہمدم نہ تھا اور آشنا محرم نہ تھا

    کوثریؔ اس وقت بھی تھا مجھ کو عشق مصطفیٰ

    آج کل جیسا ہے عشق ایسا ہی تھا کچھ کم نہ تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے