تھا مجھے عشق محمد جبکہ یہ عالم نہ تھا
تھا مجھے عشق محمد جبکہ یہ عالم نہ تھا
بس خلا ہی تھا خلا حوا نہ تھی آدم نہ تھا
چاند سورج آسماں تارے زمیں دریا نہ تھے
گل نہ تھا گلشن نہ تھا اور قطرۂ شبنم نہ تھا
انقلابِ دہر کا قانون تھا حرفِ فنا
تھی خوشی معدوم بالکل اور پیدا غم نہ تھا
دفتر پیدائش و اموات قطعی بند تھا
محفل شادی نہ تھی اور خانۂ ماتم نہ تھا
برہم و درہم مرقع تھا جہانِ ہیچ کا
بادشہ کوئی نہ تھا اور سکۂ درہم نہ تھا
آب و آتش صنعتِ تحلیل میں محلول تھے
خاک میں یہ خاکساری اور ہوا میں دم نہ تھا
عاشق و معشوق کا راز محبت تھا نہاں
مونس و ہمدم نہ تھا اور آشنا محرم نہ تھا
کوثریؔ اس وقت بھی تھا مجھ کو عشق مصطفیٰ
آج کل جیسا ہے عشق ایسا ہی تھا کچھ کم نہ تھا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.