یا علی مرتضیٰ اے رازدانِ مصطفیٰ
دلچسپ معلومات
منقبت در شان حضرت علی مرتضیٰ (نجف-عراق)
یا علی مرتضیٰ اے رازدانِ مصطفیٰ
مصطفیٰ کے بعد تیرا ہے مکانِ مصطفیٰ
جس کا مولیٰ مصطفیٰ ہے اس کا مولیٰ تو بھی ہے
دوست رکھتے ہیں تجھے سب دوستان مصطفیٰ
شوہر زہرا ہے تو صلِ علیٰ صلِ علیٰ
تجھ سے قائم ہے جہاں میں خاندانِ مصطفیٰ
ہے حسن خورشید تیرا ہے قمر تیرا حسین
یہ ہے روح مصطفیٰ اور وہ ہے جان مصطفیٰ
لحمک لحمی تجھے اکثر محمد نے کہا
نفسِ پیغمبر ہے تو حسبِ بیانِ مصطفیٰ
ہے ترا دیدار دیدارِ حبیب ذوالجلال
تیری کرتے ہیں زیارت عاشقانِ مصطفیٰ
تو ہے بابِ مصطفیٰ اور مصطفیٰ ہے شہر علم
بے ترے کیوں کر ملے پھر آستانِ مصطفیٰ
کعبۂ ربِ جہاں تیری ولادت گاہ ہے
پاک اور طاہر ہے تو مثلِ دہانِ مصطفیٰ
نور تیرا نور احمد نور احمد نور حق
شان تیری شان حق ہے یا ہے شانِ مصطفیٰ
بھر گیا علم لدنی سینۂ پُر نور میں
جبکہ تو نے مہد میں چوسی زبانِ مصطفیٰ
تجھ سے آئیں ادب سیکھے ہیں اس نے قبل خلق
کیوں نہ پھر روح القدس ہو پاسبان مصطفیٰ
جس طرح خورشید تاباں سے منور ہے فلک
اس طرح روشن ہے تجھ سے آسمانِ مصطفیٰ
حامیِٔ ملت ہے تو اے خسرو خیبر شکن
ہوگئے معدوم تجھ سے دشمنانِ مصطفیٰ
بسترِ خیرالوریٰ پر سویا تو ہجرت کی شب
خوف میں تو بن گیا دارالامانِ مصطفیٰ
تیری تیغِ کفر کش اسلام کی پہلی بنا
تیرا علم پاک ہے فیض لسانِ مصطفیٰ
اے وصی مصطفیٰ تو سابق الاسلام ہے
ذاتِ اقدس ہے تری جانِ جہانِ مصطفیٰ
تیری شمشیرِ دو دم کی آبِ نصرت کیا کہوں
جس سے ہے سرسبز اب تک بوستان مصطفیٰ
خندق و بدر و احد میں تو تنِ تنہا لڑا
تیرا دم گویا تھا اک فوجِ گرانِ مصطفیٰ
کوثریؔ کے کام دو ہیں ایک ہے لیکن مآل
ہے ثنا خواں تیرا یہ اور مدح خوانِ مصطفیٰ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.