یا عمرفاروق اعظم تیرا واجب ہے ادب
دلچسپ معلومات
منقبت در شان حضرت عمر فاروق (مدینہ-سعودی عرب)
یا عمرفاروق اعظم تیرا واجب ہے ادب
شامل یارانِ احمد تو بھی ہے اے حق طلب
بے گماں سالارِ عادل خاص تیرا ہے خطاب
فاتح بیت المقدس تیرا ہے بیشک لقب
روم اور ایران سے تونے لیا باج اور خراج
ہے بجا تجھ کو کہوں میں گر سلیمان عرب
زورِ بازو تیرا بتلاتے ہیں کوفہ اور دمشق
تیری ہمت کی گواہی دیتے ہیں شام و حلب
رونقِ اسلام تیرے عہد میں ایسی ہوئی
اہلِ عالم کی نگاہوں سے گرے ادیان سب
ملتِ بیضا کو تو نے آشکارا کر دیا
تو نے پھیلا یا نبی کا دین اور علم و ادب
مرشد کامل نبی ہے تو مریدِ باصفا
کیوں نہ ہو پھر ذات تیری عزتِ دیں کا سبب
تو بھی ہے سردار اک منجملہ قومِ قریش
خاندانِ مصطفیٰ سے تیرا ملتا ہے نسب
پڑھ کے کلمہ تو بنا اس وقت احمد کا رفیق
فرض ادا مسلم کیا کرتے تھے سب چھپ چھپ کے جب
تیرے ایماں سے ہوئی وہ تقویت اسلام کو
ہر طرف دینے لگے مسلم اذانیں روز و شب
سالہا خورشید نے ڈھونڈا زمانہ میں مگر
اہلِ عالم میں ملا تجھ سا مدبر اور کب
تیری شانِ مملکت کا ہو نہیں سکتا بیاں
تیری طرح عدل کی توصیف میں ہیں بند لب
انوری لکھ لکھ کے شاہوں کے قصیدے خوش رہا
کوثریؔ کو ہے تری مدحت سرائی میں طرب
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.