اے دل نا عاقبت اندیش مستی تُو نہ کر
اے دل نا عاقبت اندیش مستی تُو نہ کر
چند روزہ زندگی ہے زعمِ ہستی تو نہ کر
تیرے بھی پھر جائیں گے دن ایک دن اے ہوش مند
کام کر کچھ اور فکر اوج و پستی تو نہ کر
جب کہ میں کرنے لگا تو بہ تو ساقی نے کہا
ترکِ رندی سے شراب ناب سستی تو نہ کر
کوثریؔ حد سے نہ بڑھ حب رسول اللہ میں
بت پرستی چھوڑ کر آدم پرستی تو نہ کر
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.