ہم مرد ہیں اور عشق ہے مردانہ ہمارا
ہم مرد ہیں اور عشق ہے مردانہ ہمارا
محبوبِ الٰہی سے ہے یارانہ ہمارا
کیا پوچھتے ہو کوثر و فردوس کا قصہ
یہ باغ ہمارا ہے وہ میخانہ ہمارا
محشر میں بچالیں گے نبی مجھ کو یہ کہہ کر
چھیڑو نہ اسے یہ تو ہے دیوانہ ہمارا
کیا اے فلکِ پیر ترا خوف کریں ہم
باہر تری گردش سے ہے کاشانہ ہمارا
کیوں ساقی گردوں تو مری کرتا ہے دعوت
تجھ سے نہ بھرا جائے گا پیمانہ ہمارا
آقا ہےنبی اور علی اپنا ہے مولیٰ
ملتا ہوا سلماں سے ہے افسانہ ہمارا
کندن ہے وہی کوثریؔ جو خاک میں دمکے
اس واسطے ہے بھیس فقیرانہ ہمارا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.