بیاں کرتا ہوں فضلِ شانِ محمد
بیاں کرتا ہوں فضلِ شانِ محمد
سنیں غور سے عاشقانِ محمد
مرے دل بہلنے کی صورت یہی ہے
سنائے کوئی داستان محمد
چمک جائے قسمت کا اپنی ستارہ
میسر ہو گر آستانِ محمد
ہے قرآں کی نسبت یہ اپنا عقیدہ
کلامِ خدا ہے زبان محمد
بشر کیا فرشتے بھی سننے کو آئیں
اگر چھیڑ دوں داستان محمد
گئے پہنے نعلین عرش بریں پر
تھی یہ ایک ادنیٰ سی شانِ محمد
حبیب خدا اور ختم رسل ہیں
بتاؤ یہ کیا کم ہے شانِ محمد
مصیبت کو بھی جو سمجھتے ہیں راحت
حقیقت میں ہیں پیروان محمد
عمادؔ حزیں اہل مکہ سے پوچھو
کدھر کو گیا کاروان محمد
- کتاب : sukhanwaran-e-qasaba-e-kada (Pg. 261)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.