Font by Mehr Nastaliq Web

جو بزمِ کون و مکاں کو ہے جگمگائے ہوئے

فیاض علی عروجؔ

جو بزمِ کون و مکاں کو ہے جگمگائے ہوئے

فیاض علی عروجؔ

MORE BYفیاض علی عروجؔ

    جو بزمِ کون و مکاں کو ہے جگمگائے ہوئے

    اسی چراغ سے ہم بھی ہیں لو لگائے ہوئے

    یہ کون نکلا حرا سے نظر جھکائے ہوئے

    رخِ حیات کے سارے نقاب اٹھائے ہوئے

    بشر وہاں سے بھی بیگانہ وار گزرا ہے

    جہاں فرشتے کھڑے تھے پر جمائے ہوئے

    فرارِ پیروی اسوۂ رسول کے بعد

    زمانہ چل نہیں سکتا قدم ملائے ہوئے

    سموم و ریگ کی دنیا میں جن کی آنکھ کھلی

    بہار بن کے زمانے پہ ہیں وہ چھائے ہوئے

    عروجؔ نسبتِ شاہِ رسل کے صدقے میں

    کلاہِ فخر ہوں ماتھے پہ میں جھکائے ہوئے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے