کیا ہوا آنکھوں کو تیری رو رہی ہیں زار زار
کیا ہوا آنکھوں کو تیری رو رہی ہیں زار زار
کیا ہوا دل کو ترے کیوں اس قدر کھاتا ہے غم
ہے عبث تیرا گماں، چھپتا نہیں ہے رازِ عشق
اس کو افشا کر رہے ہیں سوزِ دل اور چشمِ نم
ہاں خیالِ یار نے مجھ کو جگایا رات بھر
لذتوں کو کر دیا ہے عشق نے رنج و الم
اب تو واقف ہو چکے اغیار بھی تیرے سوا
درد میرا ہو نہیں سکتا کسی صورت سے کم
نفسِ عمارہ نے نادانی سے کچھ پرواہ نہ کی
یوں کو پیری کی نصیحت تھی نہایت محترم
نفس کی ہیں عادتیں مانندِ طفلِ شیر خوار
دودھ پیتا جائے گا جب تک چھڑائیں گے نہ ہم
باز رکھ حسنِ عمل کو لذتِ تشہیر سے
اس چراگاہِ ہوس سے دور رکھ اپنا قدم
ان گناہوں کو جو آنکھوں میں بسے ہیں دور کر
ہو پشیماں اور بہا اشکِ ندامت دم بہ دم
بھوک کی شدت کے باعث اور فاقوں کے سبب
آپ نے پتھر سے باندھا ناز پروردہ شکم
زر کے بن کر جب پہاڑ آئے کہ مائل ہوں حضور
کچھ توجہ تک نہ کی، تھے آپ وہ عالی ہمم
ہیں محمد سیدِ کونین، شاهِ جن و انس
اور شہنشاهِ دو عالم، مالکِ عرب و عجم
سب سے اعلیٰ مرتبہ ہے خلق میں اور خلق میں
انبیا میں سب سے اکمل آپ کا علم و کرم
صورت و سیرت میں ہیں سرکار عالی مرتبت
اس لیے ان کو کیا حق نے حبیبِ محترم
ہے وہ خوش قسمت جو سونگھے اور بوسہ دے اسے
اے خوشا، خوشبوئے خاکِ تربتِ شاہِ امم
صدق اور صدیقِ اکبر، غار ہی میں تھے چھپے
غار میں کوئی نہیں کفار کہتے تھے بہم
جب زمانے نے ستایا میں نے لی ان کی پناہ
جب ملی ان کی مدد، بس دور تھا سب رنج و غم
دستِ اقدس سے طلب کی دین و دنیا جب کبھی
سرفرازی ہو گئی جب مل گیا دستِ کرم
خشک سالی کی سفیدی ہو گئی کافور سب
اک دعا نے آپ کی برسا دیا ابرِ کرم
اے شہ والا! ترے دربار میں آتے ہیں سب
پا پیادہ اور سوارِ اشتران تازه دم
جب کہ ان کو حق نے خود خیرالرسل فرما دیا
طاعتِ حق کے سبب، ہم ہو گئے خیرالامم
دینِ حق یوں ان کے دم سے آخرش ظاہر ہوا
مل گئے بچھڑے ہوئے اور ہو گئی غربت بھی کم
جیسے مل جائے کسی کو نیک شوہر اور پدر
بیوگی کا اور یتیمی کا اسے پھر کیا ہو غم
ہو مدد جس کو رسولِ سیدِ لولاک کی
شیر بھی ان کو ملے جنگل میں گر، مارے نہ دم
دوست ان کا ہو نہیں سکتا ہے محرومِ مدد
اور ذلیل و خوار ہو گا دشمنِ شاهِ امم
حیف! میرے نفس نے سودا کیا نقصان سے
یعنی دنیا کو خریدا کرکے عقبیٰ کالعدم
ہوں تو عاصی، پر نہیں ٹوٹا ہے پیماں آپ سے
دین کو رسی نہ ہوگی منقطع، شاہِ امم
آپ کی بخشش نہ چھوڑے گی کسی محتاج کو
جس طرح گلزار ٹیلوں کو کرے ابرِ کرم
رحمتِ حق ہوگی جب تقسیم، مجھ کو ہے امید
میرے عصیاں سے سوا ہو گا میرے رب کا کرم
ابرِ رحمت کو ترے دے حکم تا برسائے وہ
تا ابد اپنے نبی پر رحمت و فضل و کرم
آل پر، اصحاب پر اور تابعین پاک پر
صاحبِ تقویٰ پہ اور جو ہیں حلیم و ذی کرم
مغفرت قاری کی ہو، بخشش مصنف کی بھی ہو
بس میں ہے التجا تجھ سے میرے رب کرم
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.