اے مدینہ اے دیارِ حضرتِ خیرالانام
اے مدینہ اے دیارِ حضرتِ خیرالانام
جاگزیں ہے ہر دلِ عاشق میں تیرا احترام
تیرے ہر گوشے میں جلوہ ریز ہے کیفِ دوام
تجھ میں جلوہ ریز ہے نبیوں رسولوں کا امام
تو دلِ عشاق کی تسکین ہے آرام ہے
تیری عظمت بے نیازِ گردش ایام ہے
تیرا ہر منظر سہانا تیرا ہر پہلو حسیں
تیری صبحیں جاں فزا ہیں تیری شامیں دلنشیں
کیوں نہ ہو تو منزلِ مقصودِ اربابِ یقیں
تجھ میں ہیں آرام فرما رحمتہ اللعالمیں
آنکھ والوں کو تصور بھی ترا مرغوب ہے
کیوں نہ ہو اک عمر سے تو مسکنِ محبوب ہے
جب بھی تیرا ذکر چھڑ جائے مچل اٹھتا ہے من
جب بھی تیری یاد آئے جھومتا ہے تن بدن
حاجیوں کو دیکھتے ہی مست ہو جاتا ہوں میں
تیرے کوچوں تیرے بازاروں میں کھو جاتا ہوں میں
روضۂ اقدس بھی تجھ میں گنبدِ خضرا بھی ہے
درد کے ماروں کا تو ملجا بھی ہے ماویٰ بھی ہے
گو تجھے دیکھا نہیں لیکن تجھے دیکھا بھی ہے
آنکھ سے پنہاں سہی، پر قلب میں پیدا بھی ہے
تیری خوشبو ہے میرے افکار میں جذبات میں
تیری تابش ہے مرے احوال میں حالات میں
تیرے ارماں ہیں میرے ہر دن مری ہر رات میں
تیرے عنواں ہیں مرے ہر شعر میں ہر بات میں
میرے شوقِ دید کا یہ بھی تو اک انداز ہے
جو تیری باتیں کرے بس وہ مرا ہمراز ہے
جانے کب تیری طرف باندھوں گا میں رختِ سفر
جانے کب نخلِ تمنا لائے گا برگ و ثمر
جانے کب آنسو بنیں گے روکش لعل و گہر
جانے کب دیکھوں گا میں بھی وہ حجازی بام و در
جو مرے دل پر گزرتی ہے بتا سکتا نہیں
غم تو یہ ہے اڑ کے بھی طیبہ میں جا سکتا نہیں
کیا کہوں دوری تری کتنا ستاتی ہے مجھے
تیری فرقت خون کے آنسو رلاتی ہے مجھے
جب شبِ ہجراں میں تیری یاد آتی ہے مجھے
آرزوئے وصل سو جلوے دکھاتی ہے مجھے
کاش! جیتے جی ترے دلکش مناظر دیکھ لوں
جنت الفردوس کے ارضی مظاہر دیکھ لوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.