شاہِ بطحا کا جس پر کرم ہوگیا
شاہِ بطحا کا جس پر کرم ہوگیا
دونوں عالم میں وہ محترم ہوگیا
آ گئی ان کے اخلاق کی روشنی
دور دنیا سے جور و ستم ہوگیا
ذکرِ میلادِ سرکار سے خود بخود
شورِ باطل زمانے میں کم ہوگیا
مرحبا سفرِ معراج کی حکمتیں
عرشِ حق ان کے زیرِ قدم ہوگیا
بن گیا راحتِ جاں وہ سب کے لیے
نعت میں لفظ جو بھی رقم ہوگیا
آ گیا میرے لب پر جو نامِ نبی
دور ہر ایک رنج و الم ہوگیا
عظمتیں اس کی کوئی بتائے گا کیا
وقفِ نعتِ نبی جو قلم ہوگیا
سرورِ دو جہاں کے قدم چوم کر
بیتِ حق اور بھی محترم ہوگیا
کھل گیا اس کی خاطر درِ خلدِ حق
ان کے در پر ادب سے جو خم ہوگیا
ان کی نسبت کے صدقے میں فیض الامیںؔ
مجھ پہ آسان سفرِ عدم ہوگیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.