شہِ حجاز کا ہے تذکرہ اذاں کی طرح
شہِ حجاز کا ہے تذکرہ اذاں کی طرح
یہ ایک اسم ہے ہم کو متاعِ جاں کی طرح
نقوشِ پائے محمد سے جل رہے ہیں چراغ
رہِ حیات چمکتی ہے کہکشاں کی طرح
مجھے زمانے کے گرداب کیا ڈرائیں گے
خیالِ احمد مرسل ہے بادباں کی طرح
انہی کے قدموں کو چھو کرخزف ستارہ ہوئے
کہ ان کے پاؤں کی مٹی ہے آسماں کی طرح
وہ جن کا سایہ نہ تھا ان کاسایۂ رحمت
غموں کی دھوپ میں ہے سرپہ سائباں کی طرح
کوئی گدا نہ پلٹ کر گیا تہی دامن
نہیں ہے کوئی بھی در ان کے آستاں کی طرح
دلوں کواپنی طرف کھینچتا ہے شہرِ رسول
کشش نہیں ہے کسی خاک میں یہاں کی طرح
گرفتہ دل ہو فراستؔ انہی کو یاد کرو
صعوبتوں میں وہ اک یاد ہے اماں کی طرح
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.