Font by Mehr Nastaliq Web

تمہیں جن و بش کے راہبر ہو یا رسول اللہ

فتح محمد حقیرؔ

تمہیں جن و بش کے راہبر ہو یا رسول اللہ

فتح محمد حقیرؔ

MORE BYفتح محمد حقیرؔ

    تمہیں جن و بش کے راہبر ہو یا رسول اللہ

    تمہیں دریائے وحدت کے گہر ہو یا رسول اللہ

    تمہیں ہو شافع محشر تمہیں ہو خلق کے رہبر

    حبیب خالق جن و بشر ہو یا رسول اللہ

    اگر چہ لاکھوں پیغمبر کئے اللہ نے پیدا

    تمہیں سب انبیا میں نامور ہو یا رسول اللہ

    تمہارے آل اور اصحاب گل ہیں باغ وحدت کے

    درخت معرفت کے تم ثمر ہو یا رسول اللہ

    کروں کیا عرض حال اپنا جو کچھ مجھ پر گزرتا ہے

    مرے احوال سے تم با خبر ہو یا رسول اللہ

    اسیر دام رنج و غم ہوں میں کب تلک شاہا

    رہائی اب الم سے جلد تر ہو یا رسول اللہ

    خدا سے بخشوانے کو گنہگاروں کو محشر میں

    ہمیں پھر کس لیے دوزخ کا ڈر ہو یا رسول اللہ

    ہوئے مخلوق میں جب آپ پیدا حکم خالق سے

    کہاں روح الامیں نے جلوہ گر ہو یا رسول اللہ

    بلا لیجیے مدینہ میں مجھے اب جلد اے شاہا

    کہ میری عمر طیبہ میں بسر ہو یا رسول اللہ

    تمہاری روضہ انور کا نظارہ کروں ہر دم

    مدینہ میں اگر میرا گزر ہو یا رسول اللہ

    زباں ہو جائے بند ان کی جو مشرک ہم کو کہتے ہیں

    دعا کا یہ مری ظاہر اثر ہو یا رسول اللہ

    رگ منکر میں چھپنے کو بدولت نعت حضرت کے

    مرا ہر شعر نوکِ نیشتر ہو یا رسول اللہ

    ستائیں گے مجھے گر دشمن دیں کچھ نہیں غم ہے

    کہ تم یا در مرے شام و سحر ہو یا رسول اللہ

    اگر چہ ہیں بہت حاسد مرا کچھ کر نہیں سکتے

    سبب یہ ہے کہ تم اعداد پر ہو یا رسول اللہ

    کہوں پیش منکر یا محمد بیٹھتے اٹھتے

    وہیں جل کر کباب ان کا جگر ہو یا رسول اللہ

    تمہارے در پہ آیا ہوں میں اپنی التجا لے کر

    حقیرؔ بینوا پر اک نظر ہو یا رسول اللہ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے