آپ ہیں نورِ مجسم آپ فخرِ دو جہاں
آپ ہیں نورِ مجسم آپ فخرِ دو جہاں
یوں بشر کہنے کو ہیں لیکن خدا کے راز داں
کتنے احساں کر چکے اور کسی قدر کرنے کو ہیں
آپ ہی تو ہوں گے روزِ حشر ہم پر مہرباں
رونقِ عالم! نگاہِ لطف مجھ پر کیجیے
زندگی سے دور ہو جائے مری دورِ خزاں
گلشنِ عالم میں کیوں مجھ کو سکوں ملتا نہیں
آپ ہی بتلائیے اے رازدارِ بیکساں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.