Font by Mehr Nastaliq Web

میں آج دیارِ پاک میں ہوں

فاضل حبیب اللہ رشیدی

میں آج دیارِ پاک میں ہوں

فاضل حبیب اللہ رشیدی

MORE BYفاضل حبیب اللہ رشیدی

    میں آج دیارِ پاک میں ہوں

    دامانِ شہِ لولاک میں ہوں

    سر خم ہے مقدر سے اس جا

    بیٹھے تھے جہاں محبوبِ خدا

    اے شاہ ترا اک ادنیٰ گدا

    ہے فرقت کا تڑپایا ہوا

    بے حد عاصی شرمایا ہوا

    کل دنیا کا ٹھکرایا ہوا

    ہے بوجھ گناہوں کا سر پر

    آتے ہی گرا ترے در پر

    دنیا میں جنسِ وفا دے دے

    آخر میں اپنی رضا دے دے

    بے کس ہوں غم کا مارا ہوں

    میں عاجز ہوں بیچارہ ہوں

    اعمال سے دامن خالی ہے

    یہ حال ہے بد حالی ہے

    میں اشک ندامت لایا ہوں

    امید شفاعت لایا ہوں

    جذبات مرے سرشار ہوئے

    احساس حسیں بیدار ہوئے

    جنت کی فضائیں پاس مرے

    روضے کی ہوائیں پاس میرے

    مسرور ہے دل آزاد ہے دل

    سرمت فضا ہے شاد ہے دل

    دل رنج و محن کو بھول گیا

    میں یادِ وطن کو بھول گیا

    یہ قربِ محمد کی عظمت

    اللہ کی بندے پر رحمت

    وہ کون ہیں میرے پیشِ نظر

    اے وقت ذرا آہستہ گزر

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے