حافظ ہوں دل سے مصحفِ روئے جناب کا
حافظ ہوں دل سے مصحفِ روئے جناب کا
مضموں زباں پہ رہتا ہے ام الکتاب کا
سایہ ہو سر پہ جس کے رسالت مآب کا
محشر میں خوف کیا اسے پھر آفتاب کا
ہے دل کو شوق نعتِ رسالت مآب کا
دن رات شغل رہتا ہے کارِ ثواب کا
کہہ دوں گا صاف قبر میں منکر نکیر سے
ادنیٰ غلام ہوں شہِ عالی جناب کا
دو ٹکڑے چاند کو کیا انگشتِ پاک سے
ادنی سا معجزہ تھا یہ دستِ جناب کا
لازم ہے ہو قلم پر جبریل کا فداؔ
لکھتا ہوں وصف آں شہِ گردوں جناب کا
کیوں کر ملے جگہ نہ فداؔ کو بہشت میں
ہے دل سے مدح خواں شہِ عالم جناب کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.