درازی شامِ غم کی مختصر ہو
درازی شامِ غم کی مختصر ہو
پہنچ جاؤں مدینے تو سحر ہو
نظر ہو جس پر سلطانِ امم کی
جہاں اس کے نہ کیوں زیرِ اثر ہو
کسی عنوان بر آئے تمنا
کسی صورت مدینے کا سفر ہو
بھٹک سکتا نہیں راہِ وفا میں
تمہاری یاد جس کی راہ بر ہو
مری قسمت بھی چمکے ماہِ طیبہ
کسی دن میری جانب بھی گزر ہو
مری قسمت بھی چمکے ماہِ طیبہ
کسی دن میری جانب بھی گزر ہو
فداؔ حاصل ہو جو قربِ شہِ دیں
مجھے بھی اپنی ہستی کی خبر ہو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.