Font by Mehr Nastaliq Web

ہے داغِ عشق دل پہ رسالت مآب کا

غنی غازی پوری

ہے داغِ عشق دل پہ رسالت مآب کا

غنی غازی پوری

MORE BYغنی غازی پوری

    ہے داغِ عشق دل پہ رسالت مآب کا

    کچھ غم نہیں رہا مجھے یوم الحساب کا

    ہے صدمۂ فراق میں دن رات مضطرب

    اللہ رے شوق اس دلِ خانہ خراب کا

    دیکھوں جو آستانۂ دولت تو ہو قرار

    سارا سبب یہی ہے مرے اضطراب کا

    در پر کھڑے ہیں طالبِ دیدار آپ کے

    رخ سے ذرا اٹھایئے پردہ نقاب کا

    حامی میرا رسول ہے اے منکر و نکیر

    کیوں لاؤں دل میں خوف سوال و جواب کا

    کیا خوف مجھ کو روزِ قیامت سے اے غنیؔ

    خادم ہوں میں جنابِ رسالت مآب کا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے