ہے داغِ عشق دل پہ رسالت مآب کا
ہے داغِ عشق دل پہ رسالت مآب کا
کچھ غم نہیں رہا مجھے یوم الحساب کا
ہے صدمۂ فراق میں دن رات مضطرب
اللہ رے شوق اس دلِ خانہ خراب کا
دیکھوں جو آستانۂ دولت تو ہو قرار
سارا سبب یہی ہے مرے اضطراب کا
در پر کھڑے ہیں طالبِ دیدار آپ کے
رخ سے ذرا اٹھایئے پردہ نقاب کا
حامی میرا رسول ہے اے منکر و نکیر
کیوں لاؤں دل میں خوف سوال و جواب کا
کیا خوف مجھ کو روزِ قیامت سے اے غنیؔ
خادم ہوں میں جنابِ رسالت مآب کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.