قلم نے لوح پر نام محمد جب لکھا ہوگا
قلم نے لوح پر نام محمد جب لکھا ہوگا
خوشی سے بڑھ کے فوراً شاخ طوبیٰ بن گیا ہوگا
جو مقبول محمد ہے وہ مقبول خدا ہوگا
ملا ہوگا جو احمد سے احد سے کب جدا ہوگا
نبی کا تذکرہ جب اپنی محفل میں ہوا ہوگا
زباں پر سب کے جاری کلمۂ صل علیٰ ہوگا
درِ جنت غلامانِ محمد پر کھلا ہوگا
وہاں رضواں بھی استقبال کی خاطر کھڑا ہوگا
اگر عشق محمد سے کسی کا دل لگا ہوگا
خدا جانے کہ وہ ساری خدائی سے جدا ہوگا
ادا جس شعر میں مضمون نعت مصطفیٰ ہوگا
خریداروں کے مجمع میں وہ موتی بے بہا ہوگا
محبت کا پیالہ جس نے حضرت سے پیا ہوگا
وہ تا دور فلک سر مست جام کبریا ہوگا
کلام اللہ میں جس کا ثنا خواں خود خدا ہوگا
بھلا اس سے بڑا رتبہ کسی کا اور کیا ہوگا
خدا کے روبرو اپنا وسیلہ مصطفیٰ ہوگا
وہی مشکل میں اپنا حامی اور مشکل کشا ہوگا
رواں جس دم نبی کی فیض کا دریا ہوا ہوگا
گہر قطرے سے اور ذرے سے سورج بن گیا ہوگا
فدائی جو کہ دنیا میں محمد پر فدا ہوگا
بھلا پھر عاقبت میں اس کو غم کس بات کا ہوگا
محمد کے ثنا خواں کا نشاں دنیا میں کیا ہوگا
جبیں پر نور روشن چہرہ اور سینہ صفا ہوگا
در توبہ خدا مسدود کر دے گا قیامت کو
شفاعت کا مگر دروازہ اس دن بھی کھلا ہوگا
جھکے جب تک نہ دل محراب ابروئے محمد پر
خدا کی بندگی کا سجدہ کب اس سے ادا ہوگا
نہ ہوگا کوئی بھی ہمدم ہمارا وقتِ تنہائی
خدا ہوگا خبر گیر اس گھڑی یا مصطفیٰ ہوگا
نبی کا کوئی ثانی جب بنایا ہی نہیں حق نے
تو پھر وحدت کے گھر میں کون ایسا دوسرا ہوگا
سخن میری زباں سے آج کل نعتِ محمد میں
وہی نکلے گا جو عرش معلیٰ پر لکھا ہوگا
ہمیں امید ہے سرورؔ شفیع روزِ محشر پر
کہ وقت بیکسی آخر وہی حامی مرا ہوگا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.