نبی کا ثانی خدا کا بندہ فلک کے اوپر زمیں کے نیچے
نبی کا ثانی خدا کا بندہ فلک کے اوپر زمیں کے نیچے
نہ تھا نہ ہے اور نہ ہوگا اصلا فلک کے اوپر زمیں کے نیچے
ظہور نور نبی ہے ہر جا فلک کے اوپر زمیں کے نیچے
اسی کا آتا نظر ہے جلوہ فلک کے اوپر زمیں کے نیچے
خدا نے بخشا ہے تاج شاہی اسی کو از ماہ تابماہی
زمانہ مانے ہے حکم جس کا فلک کے اوپر زمیں کے نیچے
ادھر زمیں اس کے زیر فرماں ادھر ہے محکوم چرخ گرداں
وہ ہے زمانہ کا کار فرما فلک کے اوپر زمیں کے نیچے
یہ حسن سیرت جمال صورت یہ نور معنی کمال صورت
کہیں کسی نے سنا نہ دیکھا فلک کے اوپر زمیں کے نیچے
ہوا تھا معراج کس کو پہلے ملا تھا یہ تاج کس کو پہلے
یہ پایہ پہلے تھا کسنے پایا فلک کے اوپر زمیں کے نیچے
کہیں ہے سورج کہیں قمر ہے کہیں ہے جن اور کہیں بشر ہے
یہ جلوہ ہے نور احمدی کا فلک کے اوپر زمیں کے نیچے
جہاں میں اہل زماں جہاں میں مکیں ہیں جتنے مکاں مکاں میں
ہیں سارے نعت نبی میں گویا فلک کے اوپر زمیں کے نیچے
نبی جو ہوں گے خدا کے پیارے فرشتے اور جن وانس سارے
اسی سے رکھتے ہیں بس تولاّ فلک کے اوپر زمیں کے نیچے
فلک ہے جب تک زمیں ہے جب تک قیام عرش بریں ہے جب تک
رہےگا حضرت کے دیں کا چرچا فلک کے اوپر زمیں کے نیچے
احد نے احمد کو جب بلایا مکان سے تا لامکاں دکھایا
رہا نہ حائل تھا کوئی پردہ فلک کے اوپر زمیں کے نیچے
فلک نے خدمت میں سر جھکایا زمیں نے سجدے میں بار پایا
اثر حکومت کا جبکہ پہنچا فلک کے اوپر زمیں کے نیچے
نبی کی تصویر لوح دل پر جھکا کے سر دیکھ لے تو سرورؔ
کہاں تو ڈھونڈے گا زیر و بالا فلک کے اوپر زمیں کے نیچے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.