Font by Mehr Nastaliq Web

نبی کا ثانی خدا کا بندہ فلک کے اوپر زمیں کے نیچے

غلام سرور لاہوری

نبی کا ثانی خدا کا بندہ فلک کے اوپر زمیں کے نیچے

غلام سرور لاہوری

MORE BYغلام سرور لاہوری

    نبی کا ثانی خدا کا بندہ فلک کے اوپر زمیں کے نیچے

    نہ تھا نہ ہے اور نہ ہوگا اصلا فلک کے اوپر زمیں کے نیچے

    ظہور نور نبی ہے ہر جا فلک کے اوپر زمیں کے نیچے

    اسی کا آتا نظر ہے جلوہ فلک کے اوپر زمیں کے نیچے

    خدا نے بخشا ہے تاج شاہی اسی کو از ماہ تابماہی

    زمانہ مانے ہے حکم جس کا فلک کے اوپر زمیں کے نیچے

    ادھر زمیں اس کے زیر فرماں ادھر ہے محکوم چرخ گرداں

    وہ ہے زمانہ کا کار فرما فلک کے اوپر زمیں کے نیچے

    یہ حسن سیرت جمال صورت یہ نور معنی کمال صورت

    کہیں کسی نے سنا نہ دیکھا فلک کے اوپر زمیں کے نیچے

    ہوا تھا معراج کس کو پہلے ملا تھا یہ تاج کس کو پہلے

    یہ پایہ پہلے تھا کسنے پایا فلک کے اوپر زمیں کے نیچے

    کہیں ہے سورج کہیں قمر ہے کہیں ہے جن اور کہیں بشر ہے

    یہ جلوہ ہے نور احمدی کا فلک کے اوپر زمیں کے نیچے

    جہاں میں اہل زماں جہاں میں مکیں ہیں جتنے مکاں مکاں میں

    ہیں سارے نعت نبی میں گویا فلک کے اوپر زمیں کے نیچے

    نبی جو ہوں گے خدا کے پیارے فرشتے اور جن وانس سارے

    اسی سے رکھتے ہیں بس تولاّ فلک کے اوپر زمیں کے نیچے

    فلک ہے جب تک زمیں ہے جب تک قیام عرش بریں ہے جب تک

    رہےگا حضرت کے دیں کا چرچا فلک کے اوپر زمیں کے نیچے

    احد نے احمد کو جب بلایا مکان سے تا لامکاں دکھایا

    رہا نہ حائل تھا کوئی پردہ فلک کے اوپر زمیں کے نیچے

    فلک نے خدمت میں سر جھکایا زمیں نے سجدے میں بار پایا

    اثر حکومت کا جبکہ پہنچا فلک کے اوپر زمیں کے نیچے

    نبی کی تصویر لوح دل پر جھکا کے سر دیکھ لے تو سرورؔ

    کہاں تو ڈھونڈے گا زیر و بالا فلک کے اوپر زمیں کے نیچے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے